آداب[2]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - [ قدیم ]  رعب، دبدبہ۔  جاں واں بھی ہوئنگے ہاشمی دارا سے دشمن مارسٹ ہوئیگا سکندر کے نمن آداب سب سنسار پر      ( ١٦٩٧ء، ہاشمی، دیوان ٦٥ )

اشتقاق

فارسی زبان کے لفظ 'داب' کے ساتھ بطور لاحقۂ 'آ' لگانے سے آداب بنا اور بطور اسم مستعمل ہے سب سے پہلے ١٦٩٢ء میں ہاشمی کے "دیوان" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: داب
جنس: مذکر